The Zabur: Prophet Dawud’s Hidden Legacy

You are currently viewing The Zabur: Prophet Dawud’s Hidden Legacy

حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم اور کتاب زبور

حضرت داؤد علیہ السلام ایک عظیم نبی اور بادشاہ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے زبور (مزامیر) نازل کی۔ یہ کتاب نہ صرف یہودیوں اور مسیحیوں میں مقدس سمجھی جاتی ہے بلکہ اسلام میں بھی اسے اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یہ مضمون حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم، زبور کی تفصیلات، اس کی تشکیل اور مضامین کے ساتھ ساتھ اس کے پیغام کی عالمی اہمیت پر روشنی ڈالتا

Prophet Dawud A.S. was a great prophet and king to whom Allah revealed the Zabur (Psalms). This book is considered sacred among Jews and Christians, and in Islam, it is recognized as one of the divine revelations. This article examines the nation of Prophet Dawud, the details of the Zabur, its structure and themes, and its global spiritual significance..

Autoplay Video

حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم | The Nation of Prophet Dawud A.S.

حضرت داؤد علیہ السلام کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا، جو حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل پر مشتمل ایک بڑی قوم تھی۔ بنی اسرائیل بارہ قبائل پر مشتمل تھی اور حضرت داؤد علیہ السلام خاص طور پر قبیلہ یہودا سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ قوم نہ صرف اپنے مذہبی و تاریخی ورثے کے لیے معروف ہے بلکہ اس نے بعد میں یہودی اور عیسائی تاریخ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

Prophet Dawud A.S. belonged to the Israelites, a large nation descended from Prophet Ya’qub (Jacob). The Israelites were divided into twelve tribes, and Prophet Dawud specifically hailed from the tribe of Judah. This nation is renowned for its rich religious and historical heritage and has played a significant role in both Jewish and Christian histories.


کتاب زبور کی تفصیلات | Details About the Zabur

زبور کیا ہے؟ | What is the Zabur?

 

زبور ایک الہامی کتاب ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل کی گئی۔ اس کتاب میں 150 مزامیر (گیت) شامل ہیں جو اللہ کی حمد، عبادت، دعا، توبہ، اور نصیحتوں پر مشتمل ہیں۔
The Zabur is a divine scripture revealed to Prophet Dawud A.S. It comprises 150 Psalms (songs) that include praises, worship, prayers, expressions of repentance, and moral exhortations.

زبور کی ساخت | Structure of the Zabur

زبور کو پانچ مجموعوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
The Zabur is divided into five sections:


پہلا مجموعہ: مزامیر 1 تا 41

First Collection: Psalms 1 to 41

دوسرا مجموعہ: مزامیر 42 تا 72

Second Collection: Psalms 42 to 72

تیسرا مجموعہ: مزامیر 73 تا 89

Third Collection: Psalms 73 to 89

چوتھا مجموعہ: مزامیر 90 تا 106

Fourth Collection: Psalms 90 to 106

پانچواں مجموعہ: مزامیر 107 تا 150

Fifth Collection: Psalms 107 to 150

زبور کی تصنیف کا دور | Period of Composition

مزید تحقیق کے مطابق، زبور کی تصنیف کا دور تقریباً 1440 سے 586 قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے۔
Scholarly estimates suggest that the composition of the Zabur dates from around 1440 to 586 BCE.

 


زبور کے مصنفین اور ان کی منسوبیت | Authorship and Attributions in the Zabur

زبور کے 150 مزامیر میں سے مختلف مزامیر مختلف عظیم ہستیوں سے منسوب کیے جاتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
Among the 150 Psalms, various sections are attributed to different figures:


73 مزامیر حضرت داؤد علیہ السلام سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

73 Psalms are attributed to Prophet Dawud A.S.

9 مزامیر قورح (Korah) کے نام سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

9 Psalms are attributed to Korah.

2 مزامیر حضرت سلیمان علیہ السلام سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

2 Psalms are attributed to Prophet Sulaiman A.S.

1 مزمور ایتان (Ethan) سے منسوب کیا جاتا ہے۔

1 Psalm is attributed to Ethan.

1 مزمور ہیمان (Heman) سے منسوب کیا جاتا ہے۔

1 Psalm is attributed to Heman.

1 مزمور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

1 Psalm is attributed to Prophet Musa A.S.

12 مزامیر آسف (Asaph) سے منسوب کیے جاتے ہیں، جو لاویوں کے گھرانے سے تھے۔

12 Psalms are attributed to Asaph, who belonged to the Levite family.

51 مزامیر ایسے ہیں جن کے مصنفین کے نام معلوم نہیں۔

51 Psalms have unknown authorship.

According to the New Testament (Acts 4:25) and the Epistle to the Hebrews (Hebrews 4:7), Psalms 2 and 95 are ascribed to Prophet Dawud A.S.
انجیل کی کتاب اعمال (باب 4 آیت 25) اور کتاب عبرانیوں (باب 4 آیت 7) کے مطابق مزامیر 2 اور 95 کو حضرت داؤد علیہ السلام کی تخلیق قرار دیا گیا ہے۔

 


زبور کے موضوعات اور مضامین | Themes and Subjects of the Zabur

 

زبور میں مختلف موضوعات شامل ہیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
The Zabur encompasses a wide range of themes, including:


ذاتی حمد و ثناء (Personal Praise and Worship):

بہت سے مزامیر اللہ کی شان بیان کرتے ہیں اور انسانوں کو اس کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں۔

Many Psalms express personal praise of God and call people to worship Him.

دعا اور مناجات (Prayers and Supplications):

مزمور 51 حضرت داؤد علیہ السلام کی توبہ اور استغفار کا معروف گیت ہے۔

Psalm 51 is a famous prayer of repentance and supplication by Prophet Dawud A.S.

تاریخی واقعات اور عبرت (Historical Reflections and Moral Lessons):

کچھ مزامیر بنی اسرائیل کی تاریخ، مصر سے نجات، صحرا میں گزرے دن اور ان کی کامیابیوں کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔

Some Psalms recount the history of the Israelites, their deliverance from Egypt, and the trials of their desert wanderings, imparting moral lessons

مسیح کی پیشگوئی (Messianic Prophecies):

عیسائی نظریہ کے مطابق، بعض مزامیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دکھوں اور صلیبی قربانی سے متعلق ہیں۔

From a Christian perspective, certain Psalms are seen as foretelling the sufferings and crucifixion of Jesus Christ.

اللہ کی عظمت اور تخلیق (The Majesty of God and Creation):

زبور میں اللہ کو خالق کائنات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ آسمان، زمین، سمندر، درخت، موسم، اور تمام مخلوقات اس کی صنعت گری اور قدرت کا مظہر ہیں۔

The Zabur portrays God as the Creator of the universe, celebrating the heavens, earth, seas, trees, seasons, and all creatures as manifestations of His workmanship and might.

روحانی تربیت اور عبرتیں (Spiritual Guidance and Warnings):

کچھ مزامیر میں انسان کے انجام، توبہ کی ضرورت اور اللہ کے قانون کی پیروی کی تلقین کی گئی ہے۔

Several Psalms provide spiritual guidance and admonitions regarding the consequences of one’s actions, emphasizing repentance and adherence to divine law.

مشہور الفاظ (Iconic Verses):

مزمور 1 کے ابتدائی الفاظ “اے میرے خدا، اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟” وہی ہیں جو انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مصلوبیت کے وقت ادا کیے گئے بیان سے مشابہت رکھتے ہیں۔

Iconic verses such as those in Psalm 1, echoing “My God, my God, why have you forsaken me?” bear resemblance to the words spoken by Jesus Christ on the cross as recorded in the Gospels.


زبور کی عالمی اہمیت | Global Significance of the Zabur

یہودیت (Judaism):

یہودی روایت کے مطابق، زبور ایک مقدس کتاب ہے جس میں اللہ کی حمد و ثنا، دعائیں اور عبرت انگیز کہانیاں شامل ہیں۔ یہ کتاب یہودی عبادات اور مذہبی رسومات کا ایک اہم جزو ہے۔

مسیحیت (Christianity):

عیسائی بائبل کے عہدِ قدیم (Old Testament) میں زبور شامل ہے۔ مسیحی عقیدہ کے مطابق، زبور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیاں اور ان کے دکھوں کے بارے میں حوالہ جات موجود ہیں، جس کی بنا پر انہیں “ابن داؤد” کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔

اسلام (Islam):

اسلام میں زبور کو اللہ کی نازل کردہ آسمانی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ زبور وقت کے ساتھ تحریف کا شکار ہوا، پھر بھی اسے اللہ کی وحی کا ایک معتبر حصہ سمجھا جاتا ہے۔ قرآن میں حضرت داؤد علیہ السلام اور ان کی کتاب کا ذکر متعدد مواقع پر آیا ہے۔

حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور ایک جامع اور متنوع آسمانی کتاب ہے جس میں اللہ کی حمد، عبادت، توبہ، نصیحت اور عبرت کے پیغام پوشیدہ ہیں۔ اس کتاب کی ساخت، مختلف مجموعوں کی ترتیب اور مصنفین کی منسوبیت اس کے علمی و مذہبی ورثے کو اجاگر کرتی ہے۔ زبور نہ صرف یہودی اور مسیحی عبادات کا حصہ ہے بلکہ اسلامی عقائد میں بھی اسے ایک اہم مقام حاصل ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ رہنمائی کرتا ہے اور ان کے اعمال کا حساب بھی رکھتا ہے۔

The Zabur of Prophet Dawud A.S. is a comprehensive and multifaceted divine scripture that encompasses praises, worship, repentance, moral guidance, and lessons for humanity. Its structure—divided into five collections—and the attributions to various authors highlight its rich scholarly and spiritual heritage. The Zabur is integral not only to Jewish and Christian liturgies but also holds an important place in Islamic belief as a revealed scripture of Allah. It teaches us that Allah always guides His servants and holds them accountable for their actions.


حوالہ جات | References

  1. القرآن:
    • Surah An-Naml (27)
    • Surah Al-Anbiya (21)
  2. بائبل (Old Testament):
    • The Book of Psalms
  3. کتابی حوالہ جات:
    • “The History of Ancient Israel” – John Bright
    • “The Bible and the Quran: A Comparative Study” – William Campbell
    • “Psalms: A New Translation” – Harper & Row
  4. تحقیقی مطالعے:
    • Archaeological and historical research on Jerusalem and ancient Israel
    • Scholarly articles on the composition and themes of the Zabur

یہ مضمون حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم اور ان کی کتاب زبور کی تفصیلات، اس کے مضامین، اور اس کی عالمی روحانی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء ہر دور میں انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہی ہے۔

This article highlights the details of Prophet Dawud A.S.’s nation and his divine book, the Zabur, exploring its structure, themes, and global spiritual importance. The Zabur reminds us that the praise and worship of Allah has always served as a guiding light for humanity.

Leave a Reply